بنگلورو،22؍اکتوبر(ایس او نیوز) وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیو کمار کے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہ وہ لنگایت طبقہ کو الگ مذہب قر اردینے کے فیصلے سے متفق نہیں تھے، سابق وزیر اعلیٰ نے پہلی باراپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ لنگایتوں کو اقلیت کا درجہ دینے کا فیصلہ اور کانگریس کی انتخابات میں ہار غیر متعلق معاملات ہیں۔
یہاں منعقدہ پریس کانفرنس سے علاحدہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’یہ کابینہ کا متفقہ فیصلہ تھا جس میں شیو کمار،ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل،ایم بی پاٹل،ونئے کلکرنی، بسواراج رایا ریڈی اور ایس ایس ملیکارجن موجود تھے ۔یہ ایک اجتماعی فیصلہ تھا اور اس وقت کسی نے مخالفت نہیں کی جب کابینہ نے تقریباً 8مہینے پہلے لنگایت کو الگ مذہی اقلیت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔‘‘
سدارامیا نے سختی کے ساتھ استدلال کیا کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ پارٹی نے لنگایتوں کو الگ مذہب کا درجہ دینے کے سبب انتخاب میں ناکامی حاصل کی۔’’ان دو معاملات کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔جب ریاستی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تو کئی نے اس کا خیر مقدم کیا۔مجھے نہیں معلوم کہ کس لیے شیو کمار یہ ا ب کہہ رہے ہیں۔میں بھی اب اس کا تجزیہ نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ایک سخت جواب میں سدا رامیا نے کہا کہ کانگریس نے مذہب کو توڑنے کی نہ کوشش کی نہ ہی کبھی کرے گی۔ہم کبھی مذہبی معاملا ت میں داخل نہیں ہوئے اور ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ اپنی حکومت کے فیصلے کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا انہیں اس فیصلے سے کوئی افسوس نہیں ہے۔جب پوچھا گیا کہ آیا شیو کمار ان کی وقعت گھٹانے یا انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا ’’مجھے کون نشانہ بنا سکتا ہے؟جب میں غلطی پر نہیں ہوں تو مجھے کوئی نشانہ نہیں بنا سکتا۔‘‘
وزیر برائے ‘آبی وسائل ڈی کے شیو کمار نے نہ صرف پارٹی کو متعجب کردیا ہے بلکہ اپنے بیان سے جے ڈی ایس کو بھی متحیر کردیا ہے کہ ریاست میں پچھلی کانگریس حکومت نے لنگایت مذہب کے معاملے میں دخل اندازی کر کے انتخابات گنوائے۔شیو کمار نے گزشتہ ہفتہ اپنے لکشمیشور کے دورے کے موقع پر لنگایت کے مقامی بڑے سنتوں سے ملاقا ت کر کے کہا تھا کہ کس لیے کانگریس کے مقامی بہترین لیڈروں نے انتخابات ہارے تھے۔ان میں سے ایک سادھو نے کہا کہ لنگایت مذہب کو توڑنے کی کوشش کانگریس کے لیے مہنگی پڑی۔ اس پر شیو کمار نے سدارامیا حکومت کے فیصلے پر اپنی معافی مانگی تھی۔ کئی لنگایت لیڈر س بشمول بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا،اکھل بھارت ویر ا شیوا مہا سبھا کے صدر شامنور شیوشنکرپا اورکئی سادھوؤں نے شیو کما رکے بیان کا خیر مقدم کیا۔
ذرائع کے مطابق طبقے کا ایک نرم دل طبقہ شیو کمار کے بیان کے بعد ان کے تعلق سے اپنے دلوں میں ایک نرم گوشہ بنا سکتا ہے۔ان کے قریبی ذرائع بھی شیو کمار کے بیان کادفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اس بیان سے پارٹی3نومبر کے انتخاب میں لنگایتوں کے ووٹ حاصل کر سکتی ہے خصوصاً،شیموگہ، بلاری اور جمکھنڈی میں اسے ووٹ حاصل ہو سکتے ہیں جہاں لنگایت طبقے کے ووٹر کثیر تعداد میں موجود ہیں۔تاہم دیگر یہ یقین کرتے ہیں کہ شیو کمار کابیان ایک حساب کتاب والا بیان ہے جس سے انہیں کرناٹک کا ایک ایسا لیڈر بننے کی راہ ہموار کرے گا جس کے ذریعے وہ کسی دن وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچ سکتے ہیں۔لیکن شمالی کرناٹک کے کانگریس لیڈر یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ جب لنگایت لیڈر سدارامیا کابینہ کی تجویز پر گفتگوکرنے آئے تو اس وقت شیو کمار نے کس لیے احتجاج نہیں کیا جب کہ ایچ کے پاٹل جیسے سینئر لیڈر واک آؤٹ کر گئے۔ان کا استدلال ہے کہ اس سے شیو کمار کا دوغلا پن ظاہر ہوتا ہے اور لنگایتوں کا دل جیتنے ان کی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔